اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
السوال کیافرماتے ہیں علماے کرام کہ
زید کی بیوی بدچلن تھی بعد شادی دوسرے سے تعلق رکھتی تھی جب اس کے شوہر کو معلوم ہوا تو اس نے بذریعہ کوٹ طلاق دی پھر وہ عورت دوسرے کے ساتھ فرارا ہوگئ کچھ دنوں کے بعد وہ عورت واپس آٸی اور شوہر اول کے ساتھ رہنے لگی اب معلوم کرنا یہ ہے کہ بغیر حلالہ کے زید نے اپنی بیوی کو رکھ لیا جبکہ وہ طلاق دے چکاتھا شریعت کا حکم بیان کریں
المستفتی اقرار احمد علی پورہ انٹیاتھوک بازار
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسٶلہ میں زید جبکہ تین طلاق دے چکا جیسا کہ وہ لفظ حلالہ سے مستفاد ھے، پہر بھی اسو رکھے ہوۓ ہے تو ایس صورت میں حکم شرع یہ ھے کہ زید اس عورت سے فوراً یک لخت جدا ہو جاۓ اور قطع تعلق کرے کیونکہ وہ اسکی بیوی نہیں اور اب تک اس کے ساتھ بعد طلاق جو کچھ فعل حرام کا ارتکاب کیا ھے اس سے صدق دل سے توبہ کرے خاص کر ان افعال کو اپناۓ جو توبہ میں معاون ہوتے ہیں جسے کہ مسجد میں خدمت کرنا بارگاہ غفور الرحیم میں غلطی پر نادم و پرشیمان ہونا رونا گڑگڑانا، اور اگر زید اس فاسقہ فاجرہ سے اپنے آپ کو دور نہ کرے تو اسکا سماجی باٸیکاٹ کیا جاۓ پہر کیونکہ وہ ظالم ھے اور ظالم کے پاس نشست و برخواست منع ھے اللہ جل مجدہ الکریم فرماتا ھے، وَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ ذِّکْریٰ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰالِمِیْن، پ ٧ سورة الانعام، اور اگر زید دو بارہ اسکو نکاح میں لانا چاہے تو اسکے لیۓ حلالہ کی صورت کو اپناۓ اس لیۓ کہ طلاق ثلاثہ کے بعد بغیر حلالہ حلال نہیں، کما قال اللہ تعالیٰ فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَّعْدُ حَتَّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہ، سورة البقرة ھکذا فی الکتب الفقہ و الفتاوی
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ فقیرمحمد مشاہد رضا حشمتی عفی عنہ
الجواب صحیح والمجیب نجیح فقیرمحمد اسماعیل خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ
(۱۷) ماہ ربیع الثانی ۱۴۴۲ھ مطابق (۲) دسمبر ٠٢٠٢ء بروز جمعرات

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں