الســلام علیکم ورحمتـــہ اللہ وبـرکـاتـہ
الســـــــــــــــوال
ایک گزارش ہے اس شعر کی تشریح یا وضاحت چاہیے ہےکوئی کیوں پوچھے تیری بات رضا, تجھ سے کتے ہزار پھرتے ہیں
شمس تبریز خان
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــ
وعلیکم الســلام ورحمتہ اللہ وبـرکاتـہ
الجوابـــــ بــعون الملڪ الوالھابـــــ
اعلی حضرت امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان دوسری بار حج کے لئے گئے ہوئے تھے مدینہ منورہ میں نبی رحمت شفیع امت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمکے زیارت کی آرزو لئے روزہ اطہر کے سامنے دیر تک صلوۃ و سلام پڑھتے رہے مگر پہلی رات قسمت میں یہ سعادت نہ تھی اسی موقع پر عشق میں قلم اٹھاتے ہیں اور نبی کی محبت میں خوبصورت معروف نعتیہ غزل لکھتے ہیں
شعر کا مطلع ہے وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں
مطلع یعنی پہلے شعر میں دامن رحمت سے وابستگی کی امید دکھائی ہے
۔(مقطع کچھ اس طرح:) کوئی کیوں پوچھے تیری بات رضا
تجھ سے کتّے ہزار پھرتے ہیں ۔
مطلب اشعار۔اے رضا تیرا حال احوال معلوم کرنے کی کسی کو کیا ضرورت ہے تجھ جیسے تیری طرح یہاں پر ہزار ہا کتے مارے مارے پھرتے ہیں
سخن رضا صفحہ 105،سرکارِ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ حضور اعلی حضرت کمال انکساری کا اِظہار کرتے ہوئے اپنے آپ سے فکر اعلی اظہارکرتےہیں احمد رضا!تُو کیا اور تیری حقیقت کیا!تجھ جیسے تو ہزاروں سگانِ مدینہ یعنی مدینے کے کُتّے گلیوں میں دیوانہ وارپھر رہے ہیں۔یہ غزل عَرْض کرکے دِیدار کے اِنتظار میں مُؤدَّب یعنی بااَدَب بیٹھے ہوئے تھے کہ قسمت انگڑائی لیکر جاگ اُٹھی اور چشمانِ سریعنی سر کی آنکھوں سے بیداری میں زیارتِ محبوبِ باری سے مُشرَّف ہوئے۔
تذکرۂ امام احمد رضا،ص۱۳ملخصاً
*اَللّٰھُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِکْ عَلیٰ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ
والــلّٰـہ اعــلم بـــاالصـــــوابـــــ
کتبـــــــــــــــــــــــــــــہ فقیـــر محمــــــــد امــتـیـاز قـمـر الـقــادری رضـــوی الامجــــدی صـاحـب قبـلـہ مـدظلــہ الـعالـی والـنـوارنــی*گریڈیہ جھارکھنڈ
الجـوابـــــ صـحیح فقیـــر محمــــــــد اســـمــاعــیــل خــان الـقـــادری الرضـــــوی الامجــــدی صـاحـب قبـلـہ مـدظلــہ الـعالـی والـنـورانــی
گــونــڈہ یـــوپـــی
(۳) ذی الحجہ ۱۴۴۱ھ مطابق (۲۵) جولائی ٠٢٠٢ء بروز سنيچر
_____________________________________
Why would anyone ask the interpretation of a poem?
Peace be upon you and God's mercy and blessings be upon you
The question
There is a request for an explanation or explanation of this poem. Someone asked why you are satisfied, a thousand dogs are wandering around you.
Shams Tabriz Khan
_____________________________________
Peace, mercy and blessings of God be upon you
The answer is with the king of love
Hazrat Imam Ahmad Raza Khan Fazil Barelvi (may Allah have mercy on him) had gone for Hajj for the second time in Madinah. I was not happy about this.
The lion is aware that he is sleeping and wandering
Informed, that is, in the first poem, there is a hope of attachment to Daman Rahmat
Why does someone ask you to agree?
Thousands of dogs pass by you.
Meaning Poems. O Reza, why does anyone need to know your condition? Thousands of dogs like you are roaming here like you.
Sokhan Raza Page 105
Expressing his humbleness, Hazrat Kamal expresses his deepest thoughts to himself. Ahmad Raza! What have you done and what is your reality? They were sitting politely, that is, they woke up with good fortune, and in the wake of the eyes of the head of the head, they went to visit the beloved in turn.
Remembrance of Imam Ahmad Raza
Page 13 Summary
And Allah knows best
Books of Faqir Muhammad Imtiaz Qamar Al-Qadri Rizvi Al-Amjadi Sahib Qiblah Giridih Jharkhand
Answer: Sahih Faqir Muhammad Ismail Khan Al-Qadri Al-Razavi Al-Amjadi Sahib Qiblah Gundah u.p.
According to 3 Dhul-Hijjah 1441 AH, 25 July 2020 on Saturday

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں