لڑکی ہندو لڑکے سے محبت کرتی ہے اور نکاح بھی کرنا چاہتی ہے یہاں تک کہ لڑکا اپنے مذہب پر قائم رہے گا قاضی کےلئے شریعت کا کیا حکم ہے؟




 اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ

 السوال کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک مسلمان لڑکی ایک کافر سے محبت کرتی ہے شادی کے لئے دونوں گھر والے راضی بھی ہیں تو کیا پہلے اس لڑکے کا ختنہ کرانا ہوگا اور اگر ختنہ نہیں کیا پھر بھی دونوں مل کر ہی رہنے کے لیے تیار ہے لڑکی کو اس بات سے بھی کوئی اعتراض نہیں لڑکا کا پوجا کرے یا اپنے دھرم پر چلے اور نکاح کے بعد بھی وہ پوجا وغیرہ کرتا رہے گا اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا اس کا نکاح پڑھایا جائے اور پڑھا دیا تو قاضی پر شریعت کا کیا حکم ہوگا

السـائل  محمد بدر الحسن

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 

وَعَلَیْڪُمْ اَلسَّــلَامْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہ  

الجـــــوابــــــــــــ: بعون الملک الوہاب صورت مسئولہ میں وہ لڑکاکافرہے اس کےساتھ نکاح جائزنہیں جب تک کہ وہ اسلام قبول نہ کرلے اوراس کے مسلمان ہونےپریقین نہ ہوجائےورنہ لڑکی کے گھروالےاورجتنےبھی لوگ اس شادی کے لئے راضی ہوں گے اورجونکاح پڑھائےگاسب کےسب گنہگار ہوں گے اوراگرکسی نےنکاح پڑھادیاتواس پراورجولوگ اس نکاح پرراضی تھے سب پرلازم ہے کہ علانیہ توبہ تجدید ایمان اورجوبیوی والےہوں تجدیدنکاح کریں  جولوگ اس طرح کی شادی سےراضی ہوکرجوکفرپرراضی ہوناہےاورفقہ کامشہورمسئلہ ہے الرضا بالکفرکفر یعنی کفرسےراضی ہونابھی کفرہے العیاذباللہ اگرمسلمہ لڑکی کافرہ ہوجائے توکسی سےنکاح نہیں کرسکتی ھکذا فتاوی فیض الرسول جلداول صفحہ٦٤٨ لڑکی جوغیرمسلم لڑکےسےتعلق رکھتی ہے اسےقطع تعلق پرمجبور کیاجائےاوراسےعلانیہ توبہ واستغفار کرایاجائے۔ اگروہ غیرمسلم سےقطع تعلق نہ کرےتوسب مسلمان اس کابائیکاٹ کریں اس کے یہاں کھانےپینےاٹھنےبیٹھنے سےسخت پرہیزکریں۔ جولوگ اس کااسلامی بائیکاٹ نہ کریں گے وہ بھی گنہگاہوں گیں ھکذا فتاوی فیض الرسول جلداول صفحہ٦٨٥خلاصہ یہ کہ اگر وہ لڑکا اسلام قبول کرلے پھرکچھ دنوں تک اسےدیکھاجائےیہاں تک کہ وہاں کےذمہ دارعالم کواس کےمسلمان ہونے پرجب کامل یقین ہوجائے پھراس کےساتھ نکاح کرنادرست ہوگا اور رہی بات ختنہ کی تواس بارےمیں فتاوی فقیہ ملت میں ہے کہ زیداگرخودکرسکتاہوتواپنےہاتھ سےکرے یاکوئی عورت جواس کام کوکرسکتی ہوممکن ہوتواس سےنکاح کرےتاکہ وہ ختنہ کردےاوراگریہ دونوں صورتیں ممکن نہ ہوں تو ڈاکٹر غیرہ سےختنہ ختنہ کرواناناجائزہوگا کہ ایسی ضرورت کے لئے سترد یکھنا دکھانا منع ہے۔ ایساہی فتاویٰ رضویہ جلدنہم نصف اول صفحہ ٨١ میں ہے۔اوردرمختار مع شامی جلدپنجم صفحہ ٢٧١ میں ہے"قیل فی ختان الکبیراذاامکنہ ان یختن نفسہ فعل والالم یفعل الاان یمکنہ النکاح اوشراء الجاریۃ والظاھرفی الکبیرانہ یختن۔اھ "اوردرمختارمع ردالمحتار جلدپنجم صفحہ ٢٦١میں ہے"ینظرالطیب الی موضع مرضھابقدرالضرورۃ اذالضرورات تتقدربقدرھاوکذانظرقابلہ وختان ۔اھ اورردالمحتار جلدپنجم صفحہ ٢٦٢ میں ہے"کذاجزم بہ الھدایۃ والخانیۃ وغیرھمالان الختان سنۃ للرجال من جملۃ الفطرۃ لایمکن ترکھا۔اھ ملخصاماخوذ فتاوی فقیہ ملت جلد دوم صفحہ ٣٤٣

وَاللّٰــــهُ تعـــالــی اَعـــلَمُ بِــالصَّــــوَاب

کتبـــہ  فقیر محمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی بلرامپوری خطیب امام غوثیہ مسجد بھیونڈی مہاراشٹر

الجواب صحیح والمجیب نجیح

فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ خطیب وامام رضا نگر گینرو بینگا باد گریڈیہ جھار کھنڈ

مورخہ 08/06/2020

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Amjadi group

لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟

  لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟ اگر کسی کا لاش ٹکرا ٹکرا ہو جائے تو اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے یا نہیں؟  سائل: رونق اختر ثقافی ...